انتہائی کم فیس کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا حصول  غازی یونیورسٹی کسی نعمت سے کم نہیں

انتہائی کم فیس کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا حصول غازی یونیورسٹی کسی نعمت سے کم نہیں

انتہائی کم فیس کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا حصول غازی یونیورسٹی کسی نعمت سے کم نہیں
غازی یونیورسٹی جون 2014 میں معرض وجود میں آئی،اس کے آغاز سے ہی ڈیرہ غازی خان جیسے پسماندہ علاقے میں اس نئی یونیورسٹی میں فیسوں کی شرح انتہائی کم رکھی گئی کیونکہ یہاں غربت کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔انتہائی مالی مشکلات کے باوجود اس یونیورسٹی کا یہ ریکارڈ رہا کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیز کے فیس شیڈول کے مقابلے میں غازی یونیورسٹی کی شرح فیس ہمیشہ کم رہی ہے، جو کہ آج بھی سب سے کم ہے۔ایک تجزیہ کے مطابق غازی یونیورسٹی میں فی طالب علم فیس کی مدمیں پوری ڈگری کے لیے تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار لیے جا رہے ہیں جبکہ ہمسایہ شہروں کی دیگر یونیورسٹیز اس سے کہیں زیادہ فیس لے رہی ہیںجو کہ تین لاکھ سے بھی تجاوز کرتی ہے۔ الغرض غازی یونیورسٹی ایک نئی یونیورسٹی ہے اور اس کے پاس وسائل کی شدید کمی ہے اس کے باوجود بہت کم فیس وصول کر رہی ہے اور یہ علاقے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
غازی یونیورسٹی میں طلبا کی سہولت کے لیے جامعہ میں پینے کے ٹھنڈے پانی کا انتظام، پورے کیمپس میں انٹرنیٹ کی سہولت، لڑکیوں کے لیے الگ کیفے ٹیریا کا قیام، طالبات کے لیے الگ مسجد کمرے کی سہولت، لائبریری میں گرلز سیکشن کی سہولت،لڑکیوں کے لیے الگ واش رومز کی فراہمی، بین الاقوامی معیار کے روڈ، راستے،وسیع و عریض پارکنگ اور سایہ کے لیے گزیبو کی تعمیرات ، مضبوط سیکورٹی سسٹم، اعلیٰ معیار تعلیم کے لیے سمارٹ کلاس رومز کا آغاز جس میں ملٹی میڈیا کے ذریعے طلبا کو جدید علوم سے آگاہی دینا اور سایہ دار درخت شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ غازی یونیورسٹی میں طلباء کی مالی معاونت کے لیے مختلف قسم کے وظائف کا اجراء کیا گیا ہے جن میں احساس پروگرام، پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ،بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن نیڈ بیسڈ سکالرشپ ،بیت المال فنڈ، بہبود فنڈ وغیرہ شامل ہیں اوراس کے علاوہ یونیورسٹی میں انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے مستحق طلباء کی مالی معاونت کی جائے گی۔ اچھے پڑھنے والے بچوں کے لیے غازی یونیورسٹی میں ان وظائف کی مدد سے تعلیم کو جاری رکھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔
وائس چانسلر غازی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل (تمغہ امتیاز) نے اپنے پیغام میں کہا کہ غازین بچوں سے اپیل ہے کہ اپنے قیمتی وقت سے بھرپور استفادہ کریں ، تعلیم پر مکمل توجہ دیں، اپنے عزائم کو بلند رکھیں، بہترین سائنسدان اور سکالر بن کر یونیورسٹی سے نکلیں اور ملک و قوم کی خدمت کریں۔ اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ چند شر پسند عناصر اپنی منفی سوچ اور تخریبی عزائم کی وجہ سے یونیورسٹی،اپنے علاقے کی اور ملکی ترقی کو سبوتاز کرنا چاہتے ہیں ان سے ہوشیار رہیں۔ ہاں اگر کسی طالب علم کو کوئی مسئلہ ہو تو یونیورسٹی انتظامیہ اور سٹاف ہمہ وقت ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔غازی یونیورسٹی انتظامیہ اور سٹاف مالی وسائل اور تدریسی بلاکس کی کمی کے باوجودجامعہ کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہے اور انشا اللہ وہ دن دور نہیں جب یہ یونیورسٹی دنیا کی بہترین درسگاہوں میں شامل ہوجائے گی، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو اور اہل علاقہ کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ کرونا کی اس ناگہانی صورت حال کے دوران اپنا خاص خیال رکھیں۔ اللہ کریم آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *